اگر وہ باتیں کرے دردِ سر چلا جائے
طبیب دیکھے یہ منظر تو گھر چلا جائے
بتا چکا اسے جائے تو سانس رکتی ہے
اور اس کے بعد بھی کوئی اگر چلا جائے
کسی درخت کا جھڑنا بھی ٹھیک ایسے ہے
یہ دل تو ہے ہی نہیں پوری ایک دنیا ہے
کہ جو بھی آئے تو پھر لوٹ کر چلا جائے
تو داغ چاند میں تم کو نظر نہ آئے گا
وہ ایک شخص اگر چاند پر چلا جائے
ہر ایک پل تجھے کھونے کا خوف ہے دل میں
کچھ ایسا کر کہ مِرے دل سے ڈر چلا جائے
بتا رہا ہوں فوائد میں تم کو دولت کے
یہاں کوئی ہے اگر 'معتبر'، چلا جائے
یہ سامنے جو خداؤں کا ایک میلہ ہے
مِرے خلاف ہو جو بھی ادھر چلا جائے
ندیم راجہ
No comments:
Post a Comment