جذبے کی مست آنکھ میں اترا نیا خمار
اس پیکرِ خیال کو دیکھا ہے پہلی بار
سمٹا ہوا ہے اس کا بدن اپنے آپ میں
لیکن بدن سے پھوٹ رہا ہے حسیں نکھار
چہرہ پسِ حجاب بھی کب ہے حجاب میں
اس کے حسین عارض و لب ہیں کھلے ہوئے
کرتی ہے اس کا ذکر مہکتی ہوئی بہار
محسوس کر رہا ہے وہ قربت کی خوشبوئیں
آنے لگا ہے اس کو محبت پہ اعتبار
ہٹتی نہیں ہے اس کی نظر رہگزار سے
ہر شے سے بے نیاز ہے وہ محوِ انتظار
یوسف خالد
No comments:
Post a Comment