Saturday, 12 September 2020

کھِلتے ہیں گل یہاں کھل کے بکھرنے کو کھلتے ہیں گل یہاں

فلمی گیت

کھِلتے ہیں گل یہاں
کھل کے بکھرنے کو کھلتے ہیں گل یہاں
کھل کے بکھرنے کو ملتے ہیں دل یہاں
مل کے بچھڑنے کو کھلتے ہیں گل یہاں

کل رہے نہ رہے، موسم یہ پیار کا
کل رکے نہ رکے، ڈولا بہار کا
چار پل ملے جو آج، پیار میں گزار دے
کھِلتے ہیں گل یہاں
کھل کے بکھرنے کو کھلتے ہیں گل یہاں

جھیلوں کے ہونٹوں پہ میگھوں کا راگ ہے
پھولوں کے سینے میں ٹھنڈی ٹھنڈی آگ ہے
دل کے آئینے میں تُو یہ سماں اتار لے
کھِلتے ہیں گل یہاں
کھل کے بکھرنے کو کھلتے ہیں گل یہاں

پیاسا ہے دل صنم، پیاسی یہ رات ہے
ہونٹوں میں دبی دبی، کوئی میٹھی بات ہے
جن لمحوں پہ آج تُو ہر خوشی نثار دے
کھِلتے ہیں گل یہاں
کھل کے بکھرنے کو کھلتے ہیں گل یہاں

گوپال داس نیرج

No comments:

Post a Comment