Saturday, 12 September 2020

لکھے جو خط تجھے وہ تیری یاد میں ہزاروں رنگ کے

فلمی گیت

لکھے جو خط تجھے، وہ تیری یاد میں ہزاروں رنگ کے نظارے بن گئے
سویرا جب ہوا تو پھول بن گئے، جو رات آئی تو ستارے بن گئے
لکھے جو خط تجھے

کوئی نغمہ کہیں گونجا، کہا دل نے یہ تُو آئی
کہیں چٹکی کلی کوئی، میں یہ سمجھا تُو شرمائی
کوئی خوشبو کہیں بکھری، لگا یہ زلف لہرائی
لکھے جو خط تجھے، وہ تیری یاد میں ہزاروں رنگ کے نظارے بن گئے
سویرا جب ہوا تو پھول بن گئے، جو رات آئی تو ستارے بن گئے
لکھے جو خط تجھے

فضا رنگیں، ادا رنگیں، یہ اِٹھلانا، یہ شرمانا
یہ انگڑائی، یہ تنہائی، یہ ترسا کر چلے جانا
بنا دے گا نہیں کس کو جوان جادو یہ دیوانہ
لکھے جو خط تجھے، وہ تیری یاد میں ہزاروں رنگ کے نظارے بن گئے
سویرا جب ہوا تو پھول بن گئے، جو رات آئی تو ستارے بن گئے
لکھے جو خط تجھے

جہاں تُو ہے وہاں میں ہوں، میرے دل کی تُو دھڑکن ہے
مسافر میں تو منزل ہے، میں پیاسا ہوں تُو ساون ہے
میری دنیا یہ نظریں ہیں، میری جنت یہ دامن ہے
لکھے جو خط تجھے، وہ تیری یاد میں ہزاروں رنگ کے نظارے بن گئے
سویرا جب ہوا تو پھول بن گئے، جو رات آئی تو ستارے بن گئے
لکھے جو خط تجھے

گوپال داس نیرج

No comments:

Post a Comment