Sunday, 6 September 2020

جتنے لہجے جتنے موسم جتنے رنگ ہیں تیرے

ملی نغمہ

جتنے لہجے، جتنے موسم، جتنے رنگ ہیں تیرے
اتنے عفت کے رکھوالے بیٹے سنگ ہیں تیرے
خیبر، راوی، زیارت، تیرے اور سندھڑی بھی تیری
جذبے، ہمت، عظمت، چھاؤں، نصرت انگ ہیں تیرے
اک خوشبو سی جنت تجھ سے، اک احساس دھنک سا
سایہ بانٹنے والے سارے جادو ڈھنگ ہیں تیرے
میں کہ چاند کی چاندنی اوڑھ کے سوؤں، جھوموں، گاؤں
میرے سکھ جیون سے اب تو دشمن دنگ ہیں تیرے
اپنی ہے پہچان تجھی سے، ٹھنڈک، عزت، مان
جنگل، وادی، کوہ، بیاباں، چشمے ننگ ہیں تیرے
میٹھی میٹھی دھن پر چھیڑیں سندر سندر نغمے
ان گیتوں کی سندرتا سے لوگ قشنگ ہیں تیرے
حسرت پاک وطن کی مٹی آنکھ کا سرمہ تجھ کو
اے دھرتی دیوانے شاعر مست ملنگ ہیں تیرے

رشید حسرت

No comments:

Post a Comment