Sunday, 6 September 2020

ہمارا ظرف ہے یہ بھی اگر خاموش رہتے ہیں

ہمارا ظرف ہے یہ بھی، اگر خاموش رہتے ہیں
نکل جاتے ہیں کھوٹے، کارگر خاموش رہتے ہیں
ہماری بُردباری کی لبوں پہ مہر ہے، ورنہ
بیاں پہ دسترس رکھتے ہیں، پر خاموش رہتے ہیں
بتائیں کیا کہ کیسے مرحلے پہ زِندگی ٹھہری
نمی آنکھوں میں لے کر رات بھر خاموش رہتے ہیں
پتہ لگنے نہیں پاتا کہ دل کو عارضہ کیا ہے؟
بتاتے کچھ نہیں، بس چارہ گر خاموش رہتے ہیں
ہمیں یوں شب گزیدہ وحشتوں نے گود میں پالا
اگر بپھریں تو رستے پُرخطر خاموش رہتے ہیں
نجانے کیسا جادو پھونک ڈالا جادوگرنی نے؟
بہت دن ہو گئے نُورِ نظر خاموش رہتے ہیں
ہمیں طعنہ نہ دے اے فتنہ گر! تُو تنگ نظری کا
وہ جؤا گر ہیں، سب کچھ ہار کر، خاموش رہتے ہیں
رشید حسرت! وہ پہلے خوشدلی سے کام کرتے تھے
نجانے کیا ہے کہ اب نامہ بر خاموش رہتے ہیں

رشید حسرت

No comments:

Post a Comment