Thursday, 15 October 2020

اس کی تمثال کو پانے میں زمانے لگ جائیں

 اس کی تمثال کو پانے میں زمانے لگ جائیں

ہم اگر آئینہ خانوں ہی میں جانے لگ جائیں

کیا تماشا ہے کہ جب بکنے پہ راضی ہو یہ دل

اہل بازار دکانوں کو بڑھانے لگ جائیں

پاؤں میں خاک ہی زنجیر گراں ہے کہ نہیں

پوچھنا لوگ جب اس شہر سے جانے لگ جائیں

عاشقی کے بھی کچھ آداب ہوا کرتے ہیں

زخم کھایا ہے تو کیا حشر اٹھانے لگ جائیں

اور کس طرح کریں حسن خداداد کا شکر

شعر لکھنے لگیں تصویر بنانے لگ جائیں

کچھ تو ظاہر ہو کہ ہیں جشن میں شامل ہم لوگ

کچھ نہیں ہے تو چلو خاک اڑانے لگ جائیں


عرفان صدیقی

No comments:

Post a Comment