Saturday, 16 January 2021

سالگرہ؛ نہ کوئی شمع جلی اور نہ کوئی کیک کٹا

 سالگرہ


نہ کوئی شمع جلی اور نہ کوئی کیک کٹا

ہم نے مل جُل کے اکٹھے کیے سنولائے ہوئے ملبے سے

ادھ جلے خواب

تِرے آخری ملبوس کی وہ بے خبری

جس نے اک پَل میں

تِرے جسم کو انگار کیا

میز پر ہم نے سجائیں تِری خوشبوئیں

تِرے ہاتھ کے لکھے ہوئے خط

درزی کا حساب

تیری پِگھلی ہوئی تصویر کی زینت کیے

افسُردہ گلاب

اور آنکھوں میں لہو بھر کے

تجھے یاد کیا

ایسی بے خواب تھی

وہ رات کہ دروازوں پر

کسی تُربت کی اداسی کا گماں ہوتا تھا

اتنی ویران تھی اک بار تِرے نام کی بزم

جیسے برسی ہو کسی چاند کے گہنانے کی

جیسے تقریب کسی صبح کے دفنانے کی


حسین مجروح

No comments:

Post a Comment