ہم اگر قصۂ فرہاد سنانے لگ جائیں
رات کٹنے بھی ممکن ہے زمانے لگ جائیں
ہم تم رکھتے ہیں محبت کے تسلسل پہ یقیں
ہم نہیں وہ جو نئے دوست بنانے لگ جائیں
شورشِ وقت میں گمنام ہی رہنا اچھا
کیا کریں لوگ جہاں نام کمانے لگ جائیں
کس طرح ٹھہرے کوئی شب بسری کی خاطر
پیڑ جب خود ہی پرندوں کو اڑانے لگ جائیں
میرے بچ جانے کی امید ہے اب تک قائم
میرے ملبے کو اگر آپ ہٹانے لگ جائیں
کسی چشمے کو ابھی تک نہیں معلوم کہ ہم
اور بڑھتی ہے اگر پیاس بجھانے لگ جائیں
میرے اشعار ادا ہوں تیرے ہونٹوں سے اگر
ٹوٹے پھوٹے میرے الفاظ ٹھکانے لگ جائیں
دن نکلنے کی دعا مانگنے والے تنویر
تنگ آ کر نہ کہیں شہر جلانے لگ جائیں
تنویر سیٹھی
No comments:
Post a Comment