Thursday, 14 January 2021

اک بحث چل رہی تھی فقیروں کے درمیاں

 اک بحث چل رہی تھی فقیروں کے درمیاں 

ہم رہ گئے الجھ کے لکیروں کے درمیاں

کہتا تھا جو تمہارے میں سر کا ہوں سائباں 

اس نے بھی گھر بسایا جزیروں کے درمیاں

کوئی ہے پیٹھ پر کوئی سر پر سوار ہے 

میں پھس کے رہ گیا ہوں شریروں کے درمیاں

تاوان سانس لینے کا لے لو غریب سے 

یہ بات ہو رہی ہے امیروں کے درمیاں

خلقِ خدا دکھائی بھی دیتی اسے کہاں 

جو روز بیٹھتا ہو وزیروں کے درمیاں

شاید ہماری بات بھی سن لیتا حکمراں 

وہ خود ہی پھس چکا ہے مشیروں کے درمیاں

ہم کو عزیز تر ہیں رَسَن اس رہائی سے 

اک یہ خبر ملی ہے اسِیروں کے درمیاں


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment