Saturday, 2 January 2021

کہرے میں لپٹی ہوئی ہے فضا میں اداسی سی

 دسمبر


راہگزر

کہرے میں لپٹی ہوئی ہے

فضا میں اداسی سی

رچ گئی ہے

دور کہیں اک ہیولا سا ہے کہ

نظر دھوکا کھا رہی ہے

سرسراتی سرد ہوا

جیسے کوئی نوحہ سنا رہی ہے

برف سا وجود لیے

وہ زندہ ہے یا

محض سانس آ جا رہی ہے


کنول بہزاد

No comments:

Post a Comment