کل رات اس سے میں جو ہوا محو گفتگو
وہ میرے روبرو رہا میں اس کے روبرو
نکلے تری تلاش میں پایا یہی ہے بھید
ہر سمت ہر جگہ پر نظر آیا تُو ہی تُو
پھولوں کو بھی ثبات تمھارے ہی دم سے ہے
خوشبو تمہاری زلف کی پھیلی ہے چار سو
جب میں نظر نہ آوں تو ڈھونڈا کرے مجھے
پھِرتا رہے وہ قریہ بہ قریہ و جو بہ جو
ترے بغیر کوئی ملا ہی نہیں مجھے
دیکھوں نظر اٹھا کے نظر آئے صرف تُو
آواز دے کے دیکھ لیا ہے نگر نگر
کوئی نہیں ہے تجھ سا حسیں اور ہو بہ ہو
پھر اس کے بعد ہم نے اداسی لپیٹ لی
بے چین پھر رہی تھی مرے میں میں کو بہ کو
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment