سب نے مجھ ہی کو در بدر دیکھا
بے گھری نے مِرا ہی گھر دیکھا
بند آنکھوں سے دیکھ لی دنیا
ہم نے کیا کچھ نہ دیکھ کر دیکھا
کہیں موجِ نمو رُکی تو نہیں؟
شاخ سے پھول توڑ کر دیکھا
خود بھی تصویر بن گئی نظریں
ایک صورت کو اس قدر دیکھا
ہم نے حسنِ ہزار شیوہ کو
کتنی نظروں سے اک نظر دیکھا
اب نمو پائیں گے دلوں کے زخم
ہم نے اک پھول شاخ پر دیکھا
تابش دہلوی
No comments:
Post a Comment