میڈیا کان کھاتا رہتا ہے
قوم کی جان کھاتا رہتا ہے
شوربے سے، گدھے کے پائے کے
روغنی نان کھاتا رہتا ہے
ٹاک شو کی چنگیر میں بھر کر
ان چھڑے دھان کھاتا رہتا ہے
بیٹھ کر مولوی کے چرنوں میں
مرغ کی ران کھاتا رہتا ہے
ہر صحافی پرانی خبروں کا
بُورا اور چھان کھاتا رہتا ہے
قورمہ، صاحباں کے حصے کا
میرزا خان کھاتا رہتا ہے
چارپائی پہ لیٹ کر اینکر
مونج کا بان کھاتا رہتا ہے
اور مسعود کس سٹائل سے
شعر کے پان کھاتا رہتا ہے
مسعود منور
No comments:
Post a Comment