میری ماں
مجھے سب یاد ہے
کہ میں جس طرح پلا بڑھا
تیری گود میں تیری شفقتوں میں ہُوا جواں
تیرے پاس حرفِ دعا تو ہے
میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ماں
تجھے میں صلہ کوئی دوں تو کیا
یہ فلک کے تارے یہ آسماں
یہ زمین بلکہ سبھی جہاں
مجھے ہے خبر میری پیاری ماں
تیری اک دعا کا صلہ نہیں
احسن عزیز مرزا
No comments:
Post a Comment