Saturday, 27 March 2021

لمحہ خواب میسر سے بچھڑ جاتا ہوں

 لمحۂ خوابِ میسر سے بچھڑ جاتا ہوں

آنکھ کھُلتی ہے تو منظر سے بچھڑ جاتا ہوں

میری خوش بختی کہ احباب بہت ہیں میرے

بد نصیبی ہے کہ اکثر سے بچھڑ جاتا ہوں

ایک دُکھ تو مِرا دیوار سے لگ جانا ہے

دوسرا یہ ہے کہ میں در سے بچھڑ جاتا ہوں

رونا چاہوں تو میں باہر کی خبر لیتا ہوں

اور ہنسنا ہو تو اندر سے بچھڑ جاتا ہوں

شب گزرتی ہے زمانے کی نظر میں لیکن

میں تِری یاد کے دفتر سے بچھڑ جاتا ہوں

دشت میں بھاگتے گھوڑوں کے سُموں سے ساون

دُھول اڑتی ہے تو لشکر سے بچھڑ جاتا ہوں


ساون شبیر

No comments:

Post a Comment