Saturday, 27 March 2021

رات کٹتی ہی نہیں دن بھی بڑا لگتا ہے

 رات کٹتی ہی نہیں دن بھی بڑا لگتا ہے

عالم ہجر میں جینا بھی سزا لگتا ہے

ایسا لگتا ہے کہ بچنا نہیں ممکن میرا

آپ بتلائیں ذرا آپ کو کیا لگتا ہے

کل تلک اس کی خموشی بھی بھلی لگتی تھی

پر وہ اب بات بھی کرتا ہے بُرا لگتا ہے

کیوں تِری بات اثر کرتی نہیں اب دل پر

کیوں تِرا طرز بیاں آج جدا لگتا ہے

میں جدائی کو نصیب اپنا جو مانوں گا کبھی

پھر یہ کہہ دوں گا مجھے زہر دوا لگتا ہے

کر کرہا ہوں میں کئی روز سے اپنی ہی تلاش

تم کو بتلاؤں گا، جیسے ہی پتہ لگتا ہے

دیکھتا ہی نہیں انجم وہ ہماری جانب

ہم سے ناراض کئی دن سے خدا لگتا ہے


شاداب انجم

No comments:

Post a Comment