Tuesday, 2 March 2021

کب میں نے کہا ہے کہ گلِ تر سے اٹھا ہوں

کب میں نے کہا ہے کہ گلِ تر سے اٹھا ہوں

مٹی ہوں، مگر آگ کے اندر سے اٹھا ہوں

آ دیکھ کسی روز مِری جہدِ مسلسل

یہ کہنے سے پہلے کہ مقدر سے اٹھا ہوں

پتھر تمہیں لگتا ہوں مگر ہوں تو نہیں ناں

میں خاک نشیں موم کے پیکر سے اٹھا ہوں

مرکوز رہا چشمِ تماشا میں ہمیشہ

منظر میں سمایا کبھی منظر سے اٹھا ہوں

موجود سے پہلے بھی تھا موجود یہیں میں

پر وقت کے ہاتھوں میں میسر سے اٹھا ہوں

لکھا ہے روایت کے صحیفوں میں یہاں تک

میں نور کی چادر کے برابر سے اٹھا ہوں

شہکار ہوں میں زین کسی دستِ ہنر کا

یہ کس نے کہا کن کے سمندر سے اٹھا ہوں


اشتیاق زین 

No comments:

Post a Comment