Tuesday, 2 March 2021

یہ سوچ کر نہ پھر کبھی تجھ کو پکارا دوست

 یہ سوچ کر نہ پھر کبھی تجھ کو پکارا دوست

دشمن کا دوست ہو نہیں سکتا ہمارا دوست

ہم نے کبھی رکھا ہی نہیں ہے حسابِ عشق

تُو ہی ہمارا نفع ہے، تُو ہی خسارہ دوست

آنکھوں کا اک ہجوم لگا ہے مگر یہ دل

بھُولا نہ آج تک تِرا پہلا اشارہ دوست

سب کو ہے اپنی اپنی غرض سے غرض یہاں

کوئی ہمارا دوست، نہ کوئی تمہارا دوست

جو کچھ ازل سے ہوتا رہا ہے، وہی ہوا

ہم کو بھی دوستوں کی عداوت نے مارا دوست

چاہے تو اعتراف کرے، یا نہیں کرے

روحی بغیر ہے نہیں تیرا گزارا دوست


ریحانہ روحی

No comments:

Post a Comment