Monday, 21 February 2022

درد فرقت سے قرابت سی ہوئی جاتی ہے

 دردِ فرقت سے قرابت سی ہوئی جاتی ہے

ہائے یہ بھی مِری عادت سی ہوئی جاتی ہے

اف دمِ نزع بھر آئی ہیں یہ کس کی آنکھیں

مجھ کو جینے کی ضرورت سی ہوئی جاتی ہے

رشک کی یہ خِرد آشوبیاں اللہ اللہ

اپنے سایہ سے بھی وحشت سی ہوئی جاتی ہے

حسن آمادۂ تکمیلِ جفا ہے اے دوست

پھر مجھے اپنی ضرورت سی ہوئی جاتی ہے

جورِ پیہم میں ذرا جدتیں پیدا کیجے

لذتِ غم مِری عادت سی ہوئی جاتی ہے

باعثِ سہو دو عالم تھی کبھی بادہ کشی

اور یہ اب تو عبادت سی ہوئی جاتی ہے

جب سے سمجھا ہوں میں تخلیق کا مقصد بسمل

ذرے ذرے سے محبت سی ہوئی جاتی ہے


بسمل دہلوی

No comments:

Post a Comment