بِن تِرے ہر جہاں اذیت ہے
اک تسلسل سے عشق وحشت ہے
رو رہی ہے مِری سماعت بھی
چپ تِری اک عجب اذیت ہے
یار تم اور سے عشق کرتے ہو
خاک اب دیکھنی محبت ہے
مستقل چاہیے مجھے تُو اب
میرے دل پر تِری حکومت ہے
سن رہا ہے مِری کہانی وہ
یہ بھی اس کی بڑی عنایت ہے
پالتا تھا غرض محبت میں
اب اسے پھر مِری ضرورت ہے
سنبل چودھری
No comments:
Post a Comment