خود سے بھی بدگماں نہ ہو جاتے
ہم کبھی بے نشاں نہ ہو جاتے
ہم جو رہتے ہیں تِری ضرورت میں
اس قدر رائیگاں نہ ہو جاتے
وہ جو رکھتا بھرم محبت کا
ہم کبھی داستاں نہ ہو جاتے
ساتھ دیتا جو اپنا سایہ اگر
دھوپ میں سائباں نہ ہو جاتے
دل کی حسرت اگر نہ بجھ جاتی
روشنی سے دھواں نہ ہو جاتے
عارفہ صبح خان
No comments:
Post a Comment