Tuesday, 1 February 2022

خود سے بھی بدگماں نہ ہو جاتے

 خود سے بھی بدگماں نہ ہو جاتے

ہم کبھی بے نشاں نہ ہو جاتے

ہم جو رہتے ہیں تِری ضرورت میں

اس قدر رائیگاں نہ ہو جاتے

وہ جو رکھتا بھرم محبت کا

ہم کبھی داستاں نہ ہو جاتے

ساتھ دیتا جو اپنا سایہ اگر

دھوپ میں سائباں نہ ہو جاتے

دل کی حسرت اگر نہ بجھ جاتی

روشنی سے دھواں نہ ہو جاتے


عارفہ صبح خان

No comments:

Post a Comment