روشن ہر ایک سمت چراغِ نظر تو ہو
حکمِ سفر سے پہلے حسابِ سفر تو ہو
اس شہر کا سکوت، کبھی ٹوٹتا نہیں
چیخوں تو میری چیخ میں کوئی اثر تو ہو
میں تو سیاہ رات کے زِنداں میں ہوں اسِیر
پانی کا یہ بہاؤ، ندی کی شناخت ہے
اب مِرے برف برف بدن میں شرر تو ہو
فصلِ بہار سے میں کروں التجائے گُل
صحرائے بے کنار میں کوئی شجر تو ہو
چاروں طرف دھواں ہی دھواں ہے فضاؤں میں
منظر کوئی کھُلے، کبھی نُورِ سحر تو ہو
شاہد کلیم
No comments:
Post a Comment