میکدے کا تیز پانی اور ہے
نشۂ عہدِ جوانی اور ہے
آپ کو نیند آ ئی ہے تو کل سہی
صرف تھوڑی سی کہانی اور ہے
میرے مرنے پر بھی تم راضی نہیں
کیا ابھی کچھ بدگمانی اور ہے
جُوئے شیر اور کوہکن جانے بھی دو
اس کے درپردہ کہانی اور ہے
کاٹ ہے تلوار کی بھی کچھ مگر
تیری پلکوں کی روانی اور ہے
توبہ کرتا ہوں تو آتا ہے خیال
ایک جامِ ارغوانی اور ہے
دشمنوں کے دل تو ٹھنڈے ہو گئے
دوستوں کی مہربانی اور ہے
نشۂ عہدِ جوانی اور ہے
آپ کو نیند آ ئی ہے تو کل سہی
صرف تھوڑی سی کہانی اور ہے
میرے مرنے پر بھی تم راضی نہیں
کیا ابھی کچھ بدگمانی اور ہے
جُوئے شیر اور کوہکن جانے بھی دو
اس کے درپردہ کہانی اور ہے
کاٹ ہے تلوار کی بھی کچھ مگر
تیری پلکوں کی روانی اور ہے
توبہ کرتا ہوں تو آتا ہے خیال
ایک جامِ ارغوانی اور ہے
دشمنوں کے دل تو ٹھنڈے ہو گئے
دوستوں کی مہربانی اور ہے
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment