Tuesday, 1 March 2016

جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے

فلمی گیت

جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
جانے کون آس پاس ہوتا ہے

ہونٹ چپ چاپ بولتے ہوں جب
سانس کچھ تیز تیز چلتی ہو
آنکهیں جب دے رہی ہوں آوازیں
ٹهنڈی آہوں میں سانس جلتی ہو
جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
جانے کون آس پاس ہوتا ہے

آنکھ میں تیرتی ہیں تصویریں
تیرا چہره، تیرا خیال لیے
آئینہ دیکهتا ہے جب مجھ کو
ایک معصوم سا سوال لیے
جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
جانے کون آس پاس ہوتا ہے

کوئی وعده نہیں کِیا لیکن
کیوں تیرا انتظار رہتا ہے
بے وجہ جب قرار مل جاۓ
دل بڑا بے قرار رہتا ہے
جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
جانے کون آس پاس ہوتا ہے

آنکھیں پہچانتی ہیں آنکھوں کو
درد،۔ چہرہ شناس ہوتا ہے
زخم، کہتے ہیں دل کا گہنا ہے
درد،۔ دل کا لباس ہوتا ہے
جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
جانے کون آس پاس ہوتا ہے

گلزار

No comments:

Post a Comment