ان کے مداح اس زمانے میں
جیسے کتے، قصائی خانے میں
جن کے پینے میں ہوں نہ کھانے میں
منہمک ہیں مجھے ستانے میں
’’سوچیے تو پڑے گی کَے گھر کی‘‘
دیکھ لینا کہ ہر سِتم کا نام
عدل ہو گا کسی زمانے میں
شمع بجھتی ہے روشنی دے کر
جان دے زندگی بنانے میں
امنِ عالم پہ دے رہے ہیں بیان
اور بیٹھے ہیں ’’آشیانے‘‘ میں
کس نے بہکا دیا ہے اے لَے کار
’’لوریاں قوم کے جگانے میں؟‘‘
یہ مصاحب، یہ آس پاس کے لوگ
درج ہیں، شیطنت کے خانے میں
چھین کر پونجیاں غریبوں کی
جمع کر لیجیے خزانے میں
کس کے قابو کی ہے یہ اونچی بات
گھر اجڑتے گئے بسانے میں
میں تو چٹنی سے کھا رہا ہوں شادؔ
دال ملتی ہے جیل خانے میں
شاد عارفی
No comments:
Post a Comment