کیسے کریں یقین کہ اِفتی نہیں رہا
دوزخ تو رہ گئی ہے، بہشتی نہیں رہا
ٹوٹا ہے پھر سے روح و بدن کا مکالمہ
اپنا کوئی مزاج سرشتی نہیں رہا
گزری ہے کیا کسی پہ قیامت، لکھے گا کون
اک گونہ مفلسی کا تماشا ہے دوستو
پہلو میں کوئی خواب نشستی نہیں رہا
اب تک تو شاعروں نے سنائی ہے شاعری
اب جس کو شاعری کہیں لکھتی، نہیں رہا
فاضل جمیلی
No comments:
Post a Comment