Tuesday, 18 August 2020

کوئی شکوہ تو زیر لب ہو گا

کوئی شکوہ تو زیر لب ہو گا
کچھ خموشی کا بھی سبب ہو گا
میں بھی ہوں بزم میں رقیب بھی ہے
آخری فیصلہ تو اب ہو گا
آئیں مے خانہ میں کبھی واعظ
حور بھی ہو گی اور سب ہو گا
بول اے میرے دل کی تاریکی
تیرا سورج طلوع کب ہو گا؟
سنتا ہو گا صدائیں اس دل کی
شام تنہائی میں وہ جب ہو گا
کب چھٹیں گی یہ بدلیاں غم کی
صاف مطلع یہ جوش کب ہو گا

اے جی جوش

No comments:

Post a Comment