مر بھی جاؤں اگر حسرت دیدار کے ساتھ
لگ کے بیٹھوں گا نہ لیکن تیری دیوار کے ساتھ
خوں پلایا، کھلایا ہے جگر، تیری قسم
ہم نے پالا ہے تِرے غم کو بڑے پیار کے ساتھ
نے نواؤں کے مقدر میں ہے رُلتے پھیرنا
کبھی گھر بار کی خاطر، کبھی گھر بار کے ساتھ
سر جھکایا ہے نہ دستار اُترنے دی ہے
یہ الگ بات کہ سر کٹ گیا دستار کے ساتھ
راز دار اپنا ہواؤں کو بنانا نہ کبھی
دوستی ان کی ہے ہر کوچہ و بازار کے ساتھ
پارساؤں کا تو کچھ ٹھیک سے معلوم نہیں
رحمتیں حق کی یقیناً ہیں گنہگار کے ساتھ
وہی انداز، وہی ناز، وہی طور سبھی
کتنا ملتا ہے وہ ظالم مِرے اشعار کے ساتھ
ناز خیالوی
No comments:
Post a Comment