جو پیڑ پہ بیٹھا ہوا پھل توڑ رہا ہے
ہر شاخ کا رخ اپنی طرف موڑ رہا ہے
جو دیکھ رہے ہیں وہ دکھائی نہیں دیتے
اک سوختہ تن اتنا دھواں چھوڑ رہا ہے
گاڑی ہے مِری عمر کی آگے کو روانہ
منظر مِرے پیچھے کی طرف دوڑ رہا ہے
میں جس کے اشارے پہ ہوا غیر مسلح
اس کا مِرے دشمن سے بھی گٹھ جوڑ رہا ہے
جس دستِ گل اندام کو میں دیکھ رہا ہوں
کانٹے سے مِری چشمِ طلب پھوڑ رہا ہے
معلوم نسیم اس کو نہیں زہر کی تاثیر
جو سوئے ہوئے سانپ کو جھنجھوڑ رہا ہے
نسیم عباسی
No comments:
Post a Comment