ریزہ ریزہ سامنے ہر شکل کا منظر لگا
آئینے کے رخ پہ جیسے عکس کا پتھر لگا
کوئے خاموشی میں آوازیں پگھلتی دیکھ لے
شام ہی سے سو رہے ہیں لوگ اپنے در لگا
شہر اجڑا ہے تو کیا، تُو نام اپنا یاد رکھ
اپنے دروازے کی تختی صحن کے اندر لگا
شعلۂ رفتار ہوں میں کب تِرے ہاتھ آؤں گا
روک لے میری رگوں میں برف کے پتھر لگا
ریگ ہوں موجوں کے رخ پر جاگتا رہتا ہوں میں
بے کراں نیلا سمندر مجھ کو اپنا گھر لگا
سعادت سعید
No comments:
Post a Comment