ادا میں حسن ملا کر حیا سے بنتا ہے
تمہارے جیسا بنے تو خدا سے بنتا ہے
نتیجہ جان کے تجھ سے گِلہ نہیں کرتا
بھلا چراغ کا جھگڑا ہوا سے بنتا ہے
مریض کھائے تو فوراً ہی ٹھیک ہو جائے
کسی کے ہاتھ کا دلیہ دوا سے بنتا ہے
حواسِ خمسہ کی ترتیب ہی الٹ گئی ہے
زباں کا ذائقہ تیری صدا سے بنتا ہے
پرانے عشق کا ملبہ اسی لیے پھینکا
نیا مکان تو پھر ابتداء سے بنتا ہے
مِرے وجود کے اندر یہ حبس کا موسم
تِرے بندھے ہوئے بندِ قبا سے بنتا ہے
سنو یہ اس کی گلی ہے پرے کرو دولت
یہاں پہ کام بنے تو دعا سے بنتا ہے
ندیم راجہ
No comments:
Post a Comment