Saturday, 2 January 2021

اداس لوگوں کے غم مٹانا کوئی تو سیکھے

 اداس لوگوں کے غم مٹانا کوئی تو سیکھے

خزاں رُتوں میں بہار لانا کوئی تو سیکھے

یہ لوگ اپنی انا کی خاطر سُلگ رہے ہیں

کسی کے دُکھ میں جگر جلانا کوئی تو سیکھے

جسے بھی دیکھا وہ چڑھتے سورج کا ہے پُجاری

اندھیری راتوں سے دل لگانا کوئی تو سیکھے

کسی نگر میں کسی جگر میں وہ رہتے ہوں گے

وفا کے نغموں کو ڈھونڈ لانا کوئی تو سیکھے

نکھارتے ہیں جو اُجڑے گلشن کی ٹہنی ٹہنی

گلاب جیسا یہ مسکرانا کوئی تو سیکھے

لکھوں گا ایسا فسانہ ارماؔنی زندگی کا

حقیقتوں سے نظر ملانا کوئی تو سیکھے


زرین ارمانی

No comments:

Post a Comment