کب آئے تغافل سے وہ باز صاحب
وہی سرد لہجہ اور انداز صاحب
بڑے دوغلے تیرے ہمراز صاحب
بکیں نین تیرے سبھی راز صاحب
کیوں اب محبت محبت ہو کرتے
بڑا خود پہ کرتے تھے تم ناز صاحب
سیئے ہیں زخم یہ بڑی مشکلوں سے
نہ چھیڑو پرانے وہی ساز صاحب
زمیں میں ملائے فقط عشق یہ تو
ہواؤں میں رہنا ہے آغاز صاحب
وسیم اعظم
No comments:
Post a Comment