عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدحِ علیؑ میں طرز فصیحانہ مِل گیا
اے دوست! مجھ کو کار شریفانہ مل گیا
فکر و شعور و منبر و احساس و آگہی
صدقے میں اہلبیت کے کیا کیا نہ مل گیا
دھڑکن سے دل کی ماتم شبیرؑ ہے یاں
دل کیا مجھے مِلا کہ عزا خانہ مل گیا
مدحِ علیؑ نے کر دیا عقبیٰ سے بے نیاز
قائم کو باغ خُلد کا پروانہ مل گیا
قائم جعفری
سید محمود علی
No comments:
Post a Comment