عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدحتِ شاہِ دو عالمؐ میں بسر ہو جائے
سلسلہ عمر کا یوں بارِ دِگر ہو جائے
مجھ پہ بھی نظرِ کرم کر دیں مدینے والے
آپﷺ چاہیں تو مِری شب کی سحر ہو جائے
حبس اور لُو میں گرفتار ہے اُمت کہ حضور
غم کے ماروں پہ عنایت کی نظر ہو جائے
شعر گوئی ہے اگر علم و ہُنر تو آقاﷺ
نعت گوئی ہی مِرا علم و ہُنر ہو جائے
آخری سانس تلک لب پہ رہے جاری درودؐ
آپﷺ کی مدح و ثناء زادِ سفر ہو جائے
سید صداقت علی
No comments:
Post a Comment