عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یا مِرے مولا مجھے اپنے کرم کی بھیک دے
بھیک دے مجھ کو شہنشاہ اتم کی بھیک دے
علم و فن میں برکتیں دے از طفیل پنجتنؑ
مالک لوح و قلم! لوح و قلم کی بھیک دے
رِزق دے رزاق! کر میری دُعائے دل قبول
اِبنِ عبد اللہﷺ کے جاہ و حشم کی بھیک دے
سنگِ اسود چُومنے کی ہے مجھے خواہش بہت
حج کی دے توفیق اور شانِ حرم کی بھیک دے
یا خداﷻ ثابت قدم رکھ مجھ کو راہِ دِین پر
سرور کونینﷺ کے نقشِ قدم کی بھیک دے
جو غمِ اُمت میں رویا، رات بھر سویا نہیں
اپنے اس محبوبِ کی تُو چشمِ نم کی بھیک دے
اک تِرا محبوبﷺ ہے تخلیقِ دُنیا کا سبب
تُو نے جو قرآں میں کھائی اس قسم کی بھیک دے
غیر کے در پر نہ جائے گا یہ انجم لکھنوی
خالقِ کُل مالکِ عرب و عجم کی بھیک دے
انجم لکھنوی
No comments:
Post a Comment