Sunday, 7 January 2024

نیلے پربت کے تلے روتا رہا ہے کشمیر

 نِیلے پربت کے تلے روتا رہا ہے کشمیر

جِھیل میں سُرخ قبا دھوتا رہا ہے کشمیر

دیکھ کر خوف کی راتوں کو ہُوا ہے پیدا

تہِ سنگین جواں ہوتا رہا ہے کشمیر

قبریں اُگتی ہیں یہاں آرزو کے موسم میں

موت پُھولوں کی جگہ بوتا رہا ہے کشمیر

جب بھی دُنیا نے تراشا ہے بدن جنّت کا

ایک شعلے میں بھسم ہوتا رہا ہے کشمیر

ہر دہائی نے نئے خواب دِکھائے اس کو

ہر دہائی میں انہیں کھوتا رہا ہے کشمیر


نیلم بھٹی

No comments:

Post a Comment