Thursday, 4 January 2024

چین آزار سے نکل آیا

 چین آزار سے نکل آیا

جیسے گُل خار سے نکل آیا

زیر خنجر ادا ہُوا سجدہ 

پھر خُدا دار سے نکل آیا

صحرا صحرا اسے تلاش کیا

قیس بازار سے نکل آیا

لوگ اقرار میں ہی اُلجھے رہے

خُدا انکار سے نکل آیا

آستیں ہم بچاتے رہ گئے اور

سانپ دستار سے نکل آیا

دل کی دل میں چُھپا نہیں پائے 

رنگ رُخسار سے نکل آیا

حکم نامہ صراط کا زمزم 

اک عزادار سے نکل آیا


مکرم حسین زمزم 

No comments:

Post a Comment