حرفِ حق بن کے کتابوں میں مِلوں گی تم سے
میں تو خُوشبو کے صحیفوں میں ملوں گی تم سے
راہ کی دُور ہُوا کرتی ہے جن سے ظُلمت
ایسے تابندہ چراغوں میں ملوں گی تم سے
میرے چہرے سے جھلکتی ہے حیا کی تابش
اپنی حُرمت کے حجابوں میں ملوں گی تم سے
جب بھی چھیڑے گا کوئی نغمۂ ہستی مُطرب
اس کی آواز میں سازوں میں ملوں گی تم سے
حق نوائی کا لیے ہاتھ میں پرچم اپنے
میں تو پُر خار ہی رستوں میں ملوں گی تم سے
گُل کھلانا ہے مِرا وصف حبیبہ اکرام
موسمِ گُل کے اشاروں میں ملوں گی تم سے
حبیبہ اکرام
No comments:
Post a Comment