نقش گزرے ہوئے لمحوں کے ہیں دل پر کیا کیا
مڑ کے دیکھوں تو نظر آتے ہیں منظر کیا کیا
کتنے چہروں پہ رہا عکس مِری حیرت کا
مہرباں مجھ پہ ہوئے آئینہ پیکر کیا کیا
پاؤں اٹھتے تھے اسی منزلِ وحشت کی طرف
راہ تکتے تھے جہاں راہ کے پتھر کیا کیا
رہگزر دل کی نہ پل بھر کو بھی سنسان ہوئی
قافلے غم کے گزرتے رہے اکثر کیا کیا
آذرانہ تھے مِری وحشتِ دل کے سب رنگ
شام سے صبح تلک ڈھلتے تھے پیکر کیا کیا
اور اب حال ہے یہ خود سے جو ملتا ہوں کبھی
کھول دیتا ہوں شکایات کے دفتر کیا کیا
مشفق خواجہ
No comments:
Post a Comment