جانے والا جو کبھی لوٹ کے آیا ہو گا
ہم نے اک عمر کا غم کیسے چھپایا ہو گا
کس توقع پہ کوئی چاہے وفاؤں کا صِلہ
اس نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی بھُلایا ہو گا
جس سے وابستہ رہا حسنِ تغافل تیرا
تجھ کو وہ شخص کبھی یاد تو آیا ہو گا
زندگی اپنی بہرحال گزر جائے گی
تُو نہ ہو گا تِری دیوار کا سایہ ہو گا
مشفق خواجہ
No comments:
Post a Comment