Saturday, 14 November 2015

جانے والا جو کبھی لوٹ کے آیا ہو گا

 جانے والا جو کبھی لوٹ کے آیا ہو گا

ہم نے اک عمر کا غم کیسے چھپایا ہو گا

کس توقع پہ کوئی چاہے وفاؤں کا صِلہ

اس نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی بھُلایا ہو گا

جس سے وابستہ رہا حسنِ تغافل تیرا

تجھ کو وہ شخص کبھی یاد تو آیا ہو گا

زندگی اپنی بہرحال گزر جائے گی

تُو نہ ہو گا تِری دیوار کا سایہ ہو گا


مشفق خواجہ

No comments:

Post a Comment