قدم اٹھے تو عجب دل گداز منظر تھا
میں آپ اپنے لیے راستے کا پتھر تھا
دل ایک اور ہزار آزمائشیں غم کی
دل جلا تو تھا لیکن ہوا کی زد پر تھا
ہر آئینہ مِری آنکھوں سے پوچھتا ہے یہ
وہ عکس کیا ہوئے، آباد جن سے یہ گھر تھا
ہزار بار خود اپنے مکاں پہ دستک دی
اس احتمال میں جیسے کہ میں ہی اندر تھا
تمام عمر کی تنہائیاں سمیٹی ہیں
یہی مِرے در و دیوار کا مقدر تھا
اداس راتوں میں پیہم سلگتی صبحوں میں
جو غم گسار تھا کوئی، تو دیدۂ تر تھا
مشفق خواجہ
No comments:
Post a Comment