Saturday, 14 November 2015

غبار راہ اٹھا کس کو روکنے کے لیے

 غبارِ راہ اٹھا کس کو روکنے کے لیے

مِری نظر میں تو روشن ہیں منزلوں کے دِیے

اگر فزوں ہو غمِ دل، سکوت بھی ہے کلام

اسی خیال نے، اہلِ جنوں کے ہونٹ سِیے

دلِ حزِیں میں، نہ پوچھ اپنی یاد کا عالم

فِضائے تیرہ میں، جیسے کہ جل اٹھے ہوں دِیے

فسردہ شمعوں سے ہوتا ہے کچھ کچھ اندازہ 

تمام رونقِ محفل تھی ایک شب کے لیے

حیات، مرگِ مسلسل کا نام ہے شاید

وگرنہ، کس میں یہ ہمت، تِرے بغیر جیے

بس اک کِرن ہی بہت ہے تِرے تبسم کی

مسافرانِ شبِ تار کی سحر کے لیے


مشفق خواجہ

No comments:

Post a Comment