Saturday, 14 November 2015

ستم بھی کرتا ہے اس کا صلہ بھی دیتا ہے

 ستم بھی کرتا ہے اس کا صلہ بھی دیتا ہے

کہ میرے حال پہ وہ مسکرا بھی دیتا ہے

شناوروں کو اسی نے ڈبو دیا شاید

جو ڈوبتوں کو کنارے لگا بھی دیتا ہے

یہی سکوت، یہی دشتِ جاں کا سناٹا

جو سننا چاہے کوئی تو صدا بھی دیتا ہے

عجیب کوچۂ قاتل کی رسم ہے کہ یہاں

جو قتل کرتا ہے وہ خوں بہا بھی دیتا ہے

وہ کون ہے کہ جلاتا ہے دل میں شمعِ امید

پھر اپنے ہاتھ سے اس کو بجھا بھی دیتا ہے

وہ کون ہے کہ بناتا ہے نقش پانی پر

تو پتھروں کی لکیریں مِٹا بھی دیتا ہے

وہ کون ہے کہ جو بنتا راہ میں دیوار

اور اس کے بعد نئی راہ دکھا بھی دیتا ہے

وہ کون ہے کہ دکھاتا ہے رنگ رنگ کے خواب

اندھیری راتوں میں لیکن جگا بھی دیتا ہے

وہ کون ہے کہ غموں سے نوازتا ہے مجھے

غموں کو سہنے کا پھر حوصلہ بھی دیتا ہے

مجھی سے کوئی چھپاتا ہے رازِ غم سرِ شام

مجھی کو آخرِ شب پھر بتا بھی دیتا ہے


مشفق خواجہ

No comments:

Post a Comment