پرسشِ غم سے بھلا چارۂ غم کیا ہو گا
اس تکلف سے تو زخم اور بھی گہرا ہو گا
کر دیے کس نے یہ گل جاگتی آنکھوں کے چراغ
تیری خوشبوئے بدن کا کوئی جھونکا ہو گا
ہر نفس پر ہیں محبت میں ہزار اندیشے
یہ مِرے شوق کا عالم یہ تِری کم نگہی
دیکھنے والوں نے کیا کچھ بھی نہ سوچا ہو گا
درد جاگ اٹھا ہے لو دینے لگے بجھتے چراغ
دل کے زخموں کو تِری یاد نے چھیڑا ہو گا
رات کیا عمر اسی طرح گزر جائے گی
زندگی بھر یونہی چپ چاپ سلگنا ہو گا
دل لرزتا ہے ہوا چیخ رہی ہے مضطر
پھر کسی شاخ سے پتا کوئی ٹوٹا ہو گا
مضطر اکبرآبادی
No comments:
Post a Comment