جب بھی کسی کا ذکر چھڑا ہے، جب بھی کسی کی بات چلی ہے
یہی رہا ہے ذکر مسلسل، بات یہی دن رات چلی ہے
پل دو پل کا ہے یہ میلہ، لوگو اس کا لطف اٹھا لو
پی لو، کھالو، موج اڑا لو، ورنہ پھر برسات چلی ہے
دھواں دھواں ہیں شمعیں، ساری محفل پر سکتہ ہے طاری
اف وہ حیا کہ ناز تھا جس کو اپنی تاب و تواں پر بے حد
اس کا یہ انجام ہوا ہے، موت سے کھا کر مات چلی ہے
ہے سارے کا سارا دِکھاوا، جھوٹی ہے سب کارگزاری
اتنا کہاں نکلا ہے نتیجہ، جتنی تحقیقات چلی ہے
ڈھکی چھپی ہرگز نہ رہے گی اس کی بے مہری کی حقیقت
پہنچ ہی جائے گی اس تک بھی مضطر جب یہ بات چلی ہے
مضطر اکبرآبادی
No comments:
Post a Comment