Saturday, 2 January 2016

اندیشہ ہائے روز مکافات اور میں

اندیشہ ہائے روزِ مکافات، اور میں
اس دل کے بے شمار سوالات اور میں
خلقِ خدا پہ خلقِ خدا کی یہ دار و گیر
حیراں خدائے ارض و سماوات اور میں
کیا تھی خوشی اور اس کی تھی کیا قیمتِ خرید
اب رہ گئے ہیں ایسے حسابات اور میں
ہر لحظہ زندگی کی عنایات اور وہ
ہر لمحہ ایک مرگِ مفاجات اور میں
پہلے صداقتوں کے وہ پرچار اور دل
اب قول و فعل کے یہ تضادات اور میں
ہاروں گی میں ہی مجھ کو یہ وہم و گماں نہ تھا
آپس میں جب حریف تھے حالات اور میں
ہمراز و ہم سخن تھا مگر اس کے باوجود
ٹکرائے میرے دل کے مفادات اور میں

شبنم شکیل

No comments:

Post a Comment