Saturday, 2 January 2016

آتے آتے مِرا نام سا رہ گیا

آتے آتے مِرا نام سا رہ گیا
اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا
رات مجرم تھی دامن بچا لے گئی
دن گواہوں کی صف میں کھڑا رہ گیا
وہ مِرے سامنے ہی گیا اور میں
راستے کی طرح دیکھتا رہ گیا
جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے
اور میں تھا، کہ سچ بولتا رہ گیا
آندھیوں کے ارادے تو اچھے نہ تھے
یہ دِیا 🪔 کیسے جلتا ہُوا رہ گیا
اس کو کاندھوں پہ لے جا رہے ہیں وسیمؔ
اور وہ جینے کا حق مانگتا رہ گیا

وسیم بریلوی

No comments:

Post a Comment