چھپ چھپ کے جھانکتا مِرا بچپن دکھائی دے
پریوں کا دیس دل کا یہ آنگن دکھائی دے
جلووں کے باب آنکھ کے آگے کھلے ہوئے
پر دل کے سامنے کوئی چلمن دکھائی دے
جو میرے ہمرکاب ہے رہرو کے بھیس میں
تعبیر کیا ہے کوئی بتاؤ کہ خواب میں
اک سانپ سا کلائی کا کنگن دکھائی دے
کرتی ہوں ناخوشی سے میں اس سے گزر بسر
یہ عمر تو مجھے میری سوتن دکھائی دے
جوڑا سہاگ کا جو اڑھایا بہار نے
گل مہر تو عروسِ شفق تن دکھائی دے
یوں تو پڑا ہے فن کا خزانہ کھلا ہوا
اک اس پہ زہر گھولتی ناگن دکھائی دے
ہو جیسے کوئی ہمدمِ دیرینہ یوں لگے
برسوں پرانا جب کوئی دشمن دکھائی دے
سیندور جس کی مانگ میں بھرتا نہیں کوئی
یہ زندگی مجھے وہ سہاگن دکھائی دے
میں ہیر ہوں مگر مجھے رانجھا کہا کرو
سجنی کو اپنے آپ میں ساجن دکھائی دے
شبنم شکیل
No comments:
Post a Comment